ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آپریشن کمل کے متعلق سی ایم ابراہیم کا طنز، دوسرے کی بیوی کو بھگالے جانے کی خواہش بی جے پی چھوڑ دے

آپریشن کمل کے متعلق سی ایم ابراہیم کا طنز، دوسرے کی بیوی کو بھگالے جانے کی خواہش بی جے پی چھوڑ دے

Wed, 02 Jan 2019 00:40:21    S.O. News Service

بنگلورو، یکم جنوری(ایس او نیوز) سینئر کانگریس رہنما اور سابق مرکزی وزیر سی ایم ابراہیم نے کہا ہے کہ بی جے پی کو ریاست کے اقتدار پر قابض ہونے کی خواہش اپنے دل میں رکھنا جائز ہے ، اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ، لیکن اقتدار کے لئے اراکین اسمبلی کی جو تعداد چاہئے اس کے بغیر وہ حکومت کیونکر بناسکے گی۔

اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہر بار ایک نئے تہوار کا نام لے کر بی جے پی حکومت کے گرنے کا انتظار کرتی رہتی ہے، اس بار اس نے سنکرانتی کا نام لیا ہے۔ مخلوط حکومت کو پریشانی لاحق ہونے کے متعلق بی جے پی لیڈروں کے بیان پر انہوں نے کہاکہ بی جے پی لیڈروں کے حوصلوں کی وہ داد دینا چاہیں گے کہ ہر ناکامی کے بعد وہ ایک نئی امید کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں اور دوبارہ منصوبہ بناتے ہیں کہ کس طرح کس رکن اسمبلی کا اغوا کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی کو اگر شادی رچانے کا شوق ہے تو کسی نئی دلہن کی تلاش کرے۔ ایسی دلہن کا اغوا کرنے کا کیا مطلب جس کے گلے میں منگل سوتر پہلے ہی بندھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہاکہ بی جے پی جس طرح کا کلچر عام کرنا چاہتی ہے وہ ہندوستانی تہذیب کا حصہ نہیں ہے۔ کانگریس کی دلہن کو کمار سوامی نے منگل سوتر باندھ دیا ہے اور یہ دونوں کی حکومت چل رہی ہے، اب اس دلہن کو بی جے پی بھگا لے جانے کے بارے میں سوچتی ہے تو یہ اس کی خام خیالی ہوگی۔ سی ایم ابراہیم نے کہاکہ کانگریس کا ایک رکن اسمبلی بھی بی جے پی قائدین کی باتوں میں آکر استعفیٰ دینے والا نہیں ہے۔اس سے پہلے بی جے پی اراکین اسمبلی کو مستعفی کرواکر بدنامی جھیلنے کی حمایت کرچکی ہے۔ انہیں نہیں لگتا کہ دوبارہ وہ یہی حماقت دہرائے گی، لیکن بی جے پی اگر ایسی حماقت دہرانا چاہتی ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بی جے پی کا پاگل پن ہے۔

سی ایم ابراہیم نے کہاکہ اراکین اسمبلی نے بی جے پی کی بات سن کر استعفیٰ دے بھی دیا تو انہیں انتخابات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اپنا ضمیر بیچنے کاداغ لے کر وہ اپنے حلقے کے عوام کا سامنا کس منہ سے کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ مخلوط حکومت کو اگر گرانا ہے تو کم از کم 18 اراکین اسمبلی کااستعفیٰ ضروری ہے۔ 2008میں اقتدار پر رہتے ہوئے بی جے پی اتنے اراکین کو مستعفی نہیں کراسکی تو اب کہاں سے کرائے گی۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی اگر کانگریس کے اراکین اسمبلی کو خریدنے کی کوشش کرے گی تو بی جے پی میں بھی ایسے برگشتہ عناصر ہیں جو یڈیورپاکی اجارہ داری سے تنگ آچکے ہیں، کانگریس کے لئے ان کی وفاداری کو بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ چار پانچ اراکین اسمبلی کو بھی اگر کانگریس اپنے خیمے میں کر لے تو بی جے پی کو اقتدار حاصل کرنے سے روکنے اور موجودہ حکومت کو برقرار رکھنے کے لئے کافی ہے۔ فی الوقت کمار سوامی کی قیادت والی مخلوط حکومت بہتر طریقے سے کام کررہی ہے۔ اسے کام کرنے دیا جائے۔ سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا کے اس الزام پر کہ کانگریس مخلوط حکومت کی شریک ہونے کا فرض نبھانے میں ناکام رہی ہے۔ سی ایم ابراہیم نے کہاکہ دیوے گوڈا نے یہ بیان کس نکتۂ نظر سے دیا اس سے وہ واقف نہیں ، تاہم مخلوط حکومت کی رابطہ کمیٹی کی طرف سے حکومت کی جو بھی رہنمائی کی گئی ہے حکومت اس کے مطابق کام کرنے میں لگی ہوئی ہے۔


Share: